چھوٹے بچوں (پیدائش سے 3 ماہ) کی صحت کی دیکھ بھال

ہسپتال سے چھٹی دیئے جانے سے پہلے، ڈاکٹر کے ذریعہ آپ کے نوزائیدہ بچے کی جانچ کی جانی چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ وہ گھر جانے کے لیے پوری طرح سے صحت مند ہے۔ ہمارے میٹرنیٹی اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر میں اندراج کے بعد آپ کے بچے کی باقاعدہ جانچ کا انتظام کیا جائے گا۔ ان ابتدائی جانچوں کا مقصد ایسے پیدائشی اختلافات کا پتہ لگانا نیز دیگر اہم نوزائیدہ کے حالات کا پتہ لگانا ہے جن کے لیے اور زیادہ طبی دیکھ بھال کی ضرورت ہوسکتی ہے اور ساتھ ہی ان کا مقصد مستقبل میں استعمال کے لیے آپ کے بچے کی موجودہ صحت کی حالت کو ریکارڈ کرنا بھی ہے۔ تاہم، ان ابتدائی جانچوں سے پیدائشی سمیت صحت کے سبھی مسائل کا پتہ نہیں لگایا جاسکتا ہے اور ان میں سے کچھ کا بعد میں پتہ چل سکتا ہے۔ حالانکہ ایسا ہونا عام نہیں ہے، چھوٹے بچے (خاص کر نوزائیدہ بچہ) بیمار ہوسکتے ہیں اور ان کی صحت تیزی سے خراب ہوسکتی ہے۔ اس لیے یہ اہم ہے کہ آپ یہ جانتے ہوں کہ طبی مدد کب جلدی سے حاصل کی جانی چاہیے۔

بچوں کے تشویشناک طور پر بیمار ہونے کی علامات مندرجہ ذیل ہیں، جن پر والدین کو توجہ دینی چاہیے اور مناسب کارروائی کرنی چاہیے:-

سستی اور اونگھنے کی حالت
نوزائیدہ بچے اپنا زیادہ تر وقت سونے میں گزارتے ہیں۔ تاہم، آپ کے بچے کو ہر کچھ گھنٹے کے بعد جاگ جانا چاہیے، جاگنے پر اچھی طرح سے غذا لینی چاہیے اور مطمئن اور چوکس دکھائی دینا چاہیے۔ آپ کو اس کے باقاعدہ معمول میں آنے والی تبدیلی کے بارے میں خاص طور پر چوکس رہنا چاہیے  - یہ کسی بھی تشویشناک بیماری کی علامت ہوسکتی ہے۔ اگر وہ بہت زیادہ تھکا ہوا یا سوتا ہوا نظر آئے، بہت کم چوکس دکھائی دے اور کھانا کھانے کے لیے نہ جاگے، تو آپ کو اپنے بچے کو ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہیے۔

سانس لینے میں دشواری
نوزائیدہ بچے کو سانس لینے کے نارمل طریقے پر قائم ہونے کے لیے یعنی فی منٹ 20-40 سانس لینا شروع کرنے کے لیے عام طور پر کچھ گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔ عام طور ر جب وہ سو رہا ہوتا ہے تو وہ سب سے زیادہ باقاعدگی کے ساتھ سانس لیتا ہے۔ کبھی کبھی جب وہ جاگتا ہے تو بہت تھوڑی دیر کے لیے تیزی سے سانس لے سکتا ہے اور اس کے بعد معمول کے طریقہ پر لوٹ سکتا ہے۔

اگر آپ کو مندرجہ ذیل میں سے کچھ نظر آئے تو آپ کو اپنے بچے کو ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہیے:

  • وہ لگاتار تیز سانس لے رہا ہے یعنی اگر اس کی عمر دو ماہ سے کم ہے تو فی منٹ آٹھ سے زیادہ سانس لینا یا اگر اس کی عمر 2-3 ماہ ہے تو فی منٹ پچاس سے زیادہ سانس لینا
  • سانس لینے کے لیے کوشش کرنا پڑ رہا ہے اور چوسنے میں دشواری ہورہی ہے
  • سانس لیتے وقت نتھنے چوڑے دکھائی دیتے ہیں
  • جلد اور ہونٹوں کا رنگ سیاہی مائل یا نیلا دکھائی دیتا ہے

دوران خون سے متعلق مسئلہ
نوزائیدہ بچے کو ٹھنڈے ماحول میں لے جانے پر کبھی کبھی اس کے ہاتھ اور پیر نیلے دکھائی دے سکتے ہیں لیکن گرم ماحول میں آنے پر انہیں پھر سے گلابی ہوجانا چاہیے۔ کبھی کبھی زور سے رونے کے لیے اپنی سانس کو کچھ لمحے کے لیے روکنے پر اس کے چہرے، زبان اور ہونٹ کو تھوڑا نیلا ہوجانا چاہیے۔ اگر اس کے پرسکون ہوجانے پر ان جگہوں کا رنگ تیزی سے معمول کے مطابق ہوجاتا ہے تو آپ کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم، اگر آپ کا بچہ اچانک اور لگاتار پیلا پڑ رہا ہے یا اس کا پورا جسم نیلا ہوجاتا ہے، تو اسے دل یا پھیپھڑے سے متعلق مسائل ہوسکتے ہیں۔ ایسے میں فوری طبی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہائیڈریشن کی کیفیت
بچوں میں آسانی سے اور جلد ہی پانی کی کمی ہوجاتی ہے۔ یقینی بنائیں کہ آپ کا بچہ کافی مقدار میں سیال کا استعمال کررہا ہے، خاص کر جب وہ قیئ کررہا ہو یا اسے اسہال ہورہا ہو۔ پچھلے 24 گھنٹوں میں اس کے ذریعہ پیئے گیے دودھ کی مقدار کا حساب لگائیں اور اس کا اس کے معمول کے کھانے سے موازنہ کریں، جو کہ پہلے مہینے کے دوران یومیہ 10-22 اونز ( 300-660 ملی لیٹر) ہوتی ہے۔ اگر آپ اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہیں، تو اس کے ذریعہ سرگرم طور پر دودھ پلانے کے تعداد اور مدت کو نوٹ کریں۔ اگر آپ پریقین نہیں ہیں کہ آپ کا بچہ کافی دودھ پی رہا ہے یا نہیں تو آپ کو پیدائش کا کام انجام دینے والے ہسپتال یا کسی ایم سی ایچ سی سے رابطہ کرنا چاہیے۔ آپ اپنے بچے کے پیشاب کرنے کی تعداد اور مقدار کو دیکھ کر بھی اس کے سیال لینے کی مقدار کا پتہ لگا سکتے ہیں۔ اگر آپ کے بچے نے پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران کافی کم مقدار میں پیشاب کیا ہے مثال کے طور پر پہلے ہفتہ کے آخر تک چھوٹے بچوں نے 6 سے کم پھلیا تر کیا ہے تو اس میں پانی کی کمی ہونے کا خطرہ ہے۔ ایسی حالت میں آپ کو اپنے بچے کو ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہیے۔

پیٹ پھولنا
کئی بچوں کا پیٹ تھوڑا بہت پھولا رہتا ہے خاص کر زیادہ کھانے کے بعد، لیکن یہ دو کھانوں کے بیچ ملائم محسوس ہونا چاہیے، خاص کر جب بچہ سورہا ہو۔ اگر اس کا پیٹ مستقل طور پر پھولا ہوا اور ٹھوس محسوس ہورہا ہے اور ساتھ ہی اس نے ایک دن یا اس سے زیادہ وقت سے پاخانہ نہیں کیا ہے یا پیٹ سے گیس نہیں نکلی ہے، یا وہ بار بار قیئ کر رہا ہے تو آپ کو اسے فورا ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہیے کیوں کہ یہ اس کی آنت سے متعلق تشویشناک مسئلہ ہوسکتا ہے۔

بخار
جب بھی آپ کا بچہ خلاف معمول طور پر چڑچڑا یا گرم محسوس ہوتا ہے تو اس کا درجہ حرارت ناپیں۔ بغل کا درجہ حرارت ناپنا زیادہ محفوظ اختیار ہے اور 3 ماہ سے کم عمر کے بچوں کے لیے ایسا کرنے کی خاص صلاح دی جاتی ہے۔ اگر بغل کا درجہ حرارت 37.3℃ / 99.1℉ سے زیادہ ہے یا کان کا درجہ حرارت 38℃ / 100.4℉ سے زیادہ ہے تو آپ کو اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہیے کیوں کہ یہ انفیکشن کی علامت ہوسکتا ہے۔ جلدی طبی دیکھ بھال مہیا کرنا ضروری ہے کیوں کہ چھوٹے بچوں کی کیفیات بہت جلدی خراب ہوسکتی ہیں۔

مندرجہ ذیل حالات میں اپنے بچے کو فورا ڈاکٹر کے پاس لے کر جائیں

  • پیلا، اونگھتا ہوا اور گرم محسوس ہوتا ہے
  • سست ہے یا بہت زیادہ روتا ہے
  • ہرے یا خون آلود سیال قیئ کرتا ہے
  • بالکل غذا نہیں لیتا ہے یا اس کی بھوک میں بہت زیادہ تبدیلی آتی ہے
  • مروڑ ہوتا ہے
  • مستقل طور پر بہت تیزی سے سانس لیتا ہے یا سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے
  • 15 سیکنڈ یا اس سے زیادہ وقت تک سانس لینا بند کر دیتا ہے

ویب سائٹ: www.fhs.gov.hk
24 -گھنٹہ معلومات کی ہاٹ لائن: 2112 9900

(Content revised 08/2013)